ڈاٹ دار

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - گنبد نما، محرابی۔ "ڈاٹ کی دار برآمدوں کی نشانات ابھی موجود ہیں۔"      ( ١٩٨٧ء، صحیفہ، جولائی، ٥٨ )

اشتقاق

پراکرت سے ماخوذ اسم 'ڈاٹ' کے ساتھ فارسی مصدر 'داشتن' کا صیغۂ امر 'دار' لگانے سے مرکب 'ڈاٹ دار' بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٤٥ء کو "طبیعیات کی داستان" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - گنبد نما، محرابی۔ "ڈاٹ کی دار برآمدوں کی نشانات ابھی موجود ہیں۔"      ( ١٩٨٧ء، صحیفہ، جولائی، ٥٨ )